کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
حدیث نمبر
3586
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ فَقُلْتُ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ
ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے بارے میں اختیار دینے کا حکم دیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے شروع کیا اور فرمایا کہ میں تجھے ایک معاملہ ذکر کرنے والا ہوں پس تم پر لازم ہے کہ جلدی نہ کر یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کر لے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے کہتی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے فرمایا اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش کا اردہ رکھتی ہوتو آؤ میں تمہیں آرام کی چیزیں اور عمدہ سامان دے دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کی عافیت کی طلبگار ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عورتوں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے میں نے عرض کیا کہ اس میں کونسی بات ہے جس کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور ا س کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآخرت کے گھر کی عافیت کی طلبگار ہوں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ازواج نے بھی اسی طرح کہا جو میں نے کہاتھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment