کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
کھیتی باڑی کا بیان
باب
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر
3868
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ فَکَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ کُلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَالْمَائَ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْأَوْسَاقَ کُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْأَرْضَ وَالْمَائَ وَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْأَوْسَاقَ کُلَّ عَامٍ فَکَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَائَ
علی بن حجر سعدی، علی ابن مسہر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین خبیر اس کی پیداوار پھل یا کھیتی سے نصف کے عوض دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہر سال سو وسق عطا کرتے تھے اسّی وسق کھجور اور بیس وسق جو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور اموال خیبر کو تقسیم کیا گیا تو ازواج نبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اختیار دیا کہ وہ اپنی زمین اور پانی سے حصہ لے لیں یا ہر سال ان کے لئے اوساق مقرر کر دئیے جائیں ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں اختلاف ہوا بعض نے تو ہر سال اوساق کو اختیار کیا اور بعض نے زمین اورپانی کو پسند کیا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو پسند کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment