کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
لعان کا بیان
باب
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
حدیث نمبر
3651
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَمَضَيْتُ إِلَی مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِي قَالَ إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَائَ بِکَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ قُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَی فَاحِشَةٍ کَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَکَلَّمَ تَکَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ قَالَ فَسَکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُکَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَکَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا کَذَبْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَکَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَتْ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَکَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ کَانَ مِنْ الْکَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّی بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْکَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کہوں چنانچہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر مکہ گیا میں نے غلام سے کہا میرے لئے اجازت لو حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے کہنے کی آواز سن لی اور فرمانے لگی کہ ابن جبیر ہو میں نے کہا جی ہاں فرمانے لگے اندر آجاؤ اللہ کی قسم تم بغیر کسی ضروری کام کے اس وقت نہیں آئے ہو گے حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں اندر داخل ہوا تو انہوں نے ایک کمبل بچھایا ہوا تھا اور تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے وہ تکیہ کہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی میں نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کیا لعان کرنے والے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ! ہاں کیونکہ سب سے پہلے جس نے اس بارے میں پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو فحش کام زنا کرتا ہوا پائے تو وہ کیا کرے اگر وہ کسی سے بات کرےتو یہ بہت بڑی بات کہے گا اور اگر خاموش رہے تو اس جیسی بات پر کیسے خاموش رہا جا سکتا ہے راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد وہ آدمی پھر آیا اور اس نے عرض کیا کہ جس مسئلہ کے بارے میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا اب میں خود مبتلا ہوگیا ہوں پھر اللہ تعالی نے سورہ النور میں (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) آیات نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کو اس پر تلاوت فرمایا اور اسے نصحیت فرمائی اور اسے سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اس آدمی نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے اس عورت پر جھوٹ نہیں بولا، پھر آپ نے اس عورت کو بلایا اور وعظ و نصحیت فرمائی اور اسے خبر دی کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔اس عورت نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہےیہ آدمی جھوٹا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے آغاز فرمایا اور اس نے چار مرتبہ گواہی دی اور کہا اللہ کی قسم وہ (میں) سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ اس نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے تو اس عورت نے چارمرتبہ گواہی دی کہ یہ آدمی جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس عورت نے کہا کہ اس عورت پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر یہ آدمی سچا ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےان دونوں کے درمیان مستقل جدائی ڈال دی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment