کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
خرید وفروخت کا بیان
باب
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حدیث نمبر
3857
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَائَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَهْلِکُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِکُ هَذَا فَلَمْ يَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلَّا هَذَا فَلِذَلِکَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْئٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ
اسحاق، عیسی بن یونس، اوزاعی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمان، حضرت حنظہ بن قیس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر زمین کرایہ پر دیتے تھے تو بعض اوقات اس زمین کی تباہی ہوتی اور دوسری سلامت رہتی اور بعض دفعہ یہ سلامت رہتی اور وہ ہلاک ہو جاتی اور لوگوں میں سے بعض کو بچے ہوئے کے علاوہ کچھ کرایہ وصول نہ ہوتا اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہاں اگر کرایہ کے بدلے کوئی معین اور ضمانت شدہ چیز ہو تو پھر کوئی حرج نہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment