کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
رضاعت کا بیان
باب
کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استحباب کے بیان میں۔
حدیث نمبر
3547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَی نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ قَالَ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نَخَسَهُ أُرَاهُ قَالَ بِشَيْئٍ کَانَ مَعَهُ قَالَ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِکَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِي حَتَّی إِنِّي لِأَکُفُّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبِيعُنِيهِ بِکَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَکَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِکَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَکَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ وَقَالَ لِي أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيکَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ثَيِّبًا أَمْ بِکْرًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا تُضَاحِکُکَ وَتُضَاحِکُهَا وَتُلَاعِبُکَ وَتُلَاعِبُهَا قَالَ أَبُو نَضْرَةَ فَکَانَتْ کَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ افْعَلْ کَذَا وَکَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ
محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابونضرة، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور میں اپنے پانی لانے والے اونٹ پر سوار تھا اور وہ سب لوگوں سے پیچھے تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارا یا کونچا دیا میرا گمان ہے کہ اپنے پاس موجود کسی چیز سے پس اس کے بعد وہ لوگوں سے آگے بڑھنے لگا اور مجھ سے لڑتا تھا اور میں اسے روکتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو اسے مجھے اتنے انتے دام کے عوض بیچتا ہے؟ اللہ تجھے بخش دے گا، میں نے عرض کیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو اتنی انتی قمت کے عوض یہ اونٹ مجھے بیچتا ہے اور اللہ تجھے بخش دے؟ میں نے عرض کیا وہ آپ کا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کیا تو نے اپنے والد کے بعد شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں بیوہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی وہ تجھے ہنساتی اور تو اسے ہنساتا اور وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھلیتا؟ ابونضرہ نے کہا کہ یہ کلمہ مسلمانوں کا تکیہ کلام ہوگیا ہے کہ تو اس طرح کر اللہ تجھے بخش دے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment