کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
لعان کا بیان
باب
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
حدیث نمبر
3663
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَعِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُکِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِکَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْکُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَکَانَ الَّذِي ادَّعَی عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ کَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَکَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تِلْکَ امْرَأَةٌ کَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوئَ
محمد بن رمح ابن مہاجر، عیسی بن حماد، لیث، یحیی بن سعید، عبدالرحمان بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لعان کا ذکر کیا گیا حضرت عا صم بن عد ی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بارے میں کچھ کہا اور پھر وہ چلے گئے تو ان کی قوم کا ایک آدمی آیا اور ان سے شکایت کرنے لگا کہ اس نے انپی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے تو حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ میں اپنے قو ل کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوگیا ہوں- پھر حضرت عا صم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے اور آپ کو اس آدمی نے اس کی خبر دی اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے اور وہ ذرا پتلا دبلا اور سیدھے بالوں والے تھا اور جس آدمی پر دعوی کیاکہ وہ اس کی بیوی کے پاس تھا وہ آدمی موٹی پنڈلیوں والا گندمی رنگ والا اور بہت موٹے جسم والا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ (اس مسلہ کو) واضح فرما - پھر اس عورت نے ایک بچے کو جنا جو کہ اس آدمی کے مشانہ تھا کہ جس کے بارے میں اس عورت کے خاوند نے ذکر کیا کہ اس نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا ہے- پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپس میں لعان کیا مجلس میں موجود لوگوں میں سے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو میں اس عورت کو رجم کرتا؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ عورت تھی جو اسلام لانے کے بعد بھی برسر عام بدکاری کرتی تھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment