Wednesday, 9 November 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1211,TotalNo:3609


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
طلاق کا بیان
باب
مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہو نے کے بیان میں
حدیث نمبر
3609
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَی الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَی امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ کَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ فَقَالَا لَهَا وَاللَّهِ مَا لَکِ نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَکُونِي حَامِلًا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَکِ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ أَعْمَی تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْکَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ فَبَيْنِي وَبَيْنَکُمْ الْقُرْآنُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ الْآيَةَ قَالَتْ هَذَا لِمَنْ کَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأَيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَکَيْفَ تَقُولُونَ لَا نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَکُنْ حَامِلًا فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا
  اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوعمر بن حفص بن مغیرہ علی بن ابی طالب کے ساتھ یمن کی طرف گئے تو اس نے اپنی بیوی کی طرف طلاق بھیجی جواس کی طلاق سے باقی تھی اور اس کے لئے نفقہ کا حارث بن ہشام اور عیاش بن ابوربیعہ کو حکم دیا ان دونوں نے اس سے کہا کہ اللہ کی قسم تیرے لئے نفقہ نہیں سوائے اس کے کہ تو حاملہ ہوتی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی قوم کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرے لیے نفقہ نہیں ہے اور آپ سے اس نے انتقال (مکان) کی اجازت مانگی تو اسے اجازت دے دی گئی اس نے کہا اے اللہ کے رسول! کہاں جاؤں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:  ابن ام مکتوم کی طرف اور وہ نابینا ہیں تو اپنے کپڑے اس کے پاس اتار (آسانی سے تبدیل کر سکتی) ہے اور وہ اسے نہ دیکھے گا جب اس کی عدت گزر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نکاح اسامہ بن زید سے کر دیا فاطمہ کی طرف مروان نے قبیصہ بن ذویب کو بھیجا کہ اس سے حدیث کے بارے میں پوچھو تو اس نے اسے بیان کیا تو مروان نے کہا ہم نے یہ حدیث ایک عورت کے سوا کسی سے نہیں سنی اور ہم وہی معاملہ اختیار کریں گے جس پر عام لوگوں کو ہم نے پایا ہے جب فاطمہ کو مروان کا یہ قول پہنچا تو اس نے کہا پس میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا قرآن ہے اللہ نے فرمایا ہے ( لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ) انہیں اپنے گھروں سے نہ نکالو فاطمہ نے کہا یہ آیت اس کے لئے ہے جس کے لئے رجوع ہو پس تین طلاق کے بعد کونسا معاملہ ہونے والا ہے پھر تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لئے نفقہ نہ ہونا اس صورت میں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو اور تم اسے کس دلیل سے روکو گے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment