کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
طلاق کا بیان
باب
حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلا ق واقع نہ ہوگی اور مرد کو رجو ع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں
حدیث نمبر
3575
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَی عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ ذَلِکَ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرَاجِعْهَا فَرَدَّهَا وَقَالَ إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِکْ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن عزہ کے مولی سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوالزبیر سن رہے تھے کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی آپ اس کے بارے میں کیا حکم بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو کہا کہ ابن عمرنے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کرنے کا فرمایا اور کہا کہ جب وہ پاک ہو جائے تو چاہے طلاق دے دے چاہے روک لے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ) اے نبی جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کی ابتداء میں طلاق دو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment