کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
رضاعت کا بیان
باب
کنواری عورت سے نکاح کرنے کے استحباب کے بیان میں۔
حدیث نمبر
3543
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَکَ وَتَرَکَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ قَالَ سَبْعَ فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِکْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ أَوْ قَالَ تُضَاحِکُهَا وَتُضَاحِکُکَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَکَ وَتَرَکَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ وَإِنِّي کَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيئَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ قَالَ فَبَارَکَ اللَّهُ لَکَ أَوْ قَالَ لِي خَيْرًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ وَتُضَاحِکُهَا وَتُضَاحِکُکَ
یحیی بن یحیی، ابوربیع زہرانی، حماد ابن زید، عمر بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ انتقال کر گئے اور نو یاسات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا اے جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کنواری یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بیوہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اسے کھیلاتے اور وہ تمہیں کھیلاتی یا فرمایا تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے والد عبداللہ فوت ہو گئے اور انہوں نے نو یا سات بیٹیاں چھوڑیں ہیں اور میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی ایک اور عورت لے آؤں اور میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ایک ایسی عورت لاؤ جو ان کی خبر گیری کرے اور خدمت بھی کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تیرے لئے برکت دے یا مجھے فرمایا تیرے لئے بھلائی ہو دوسری روایت میں (تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ أَوْ قَالَ تُضَاحِکُهَا وَتُضَاحِکُکَ ) کے الفاظ ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment