کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
طلاق کا بیان
باب
ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
حدیث نمبر
3601
قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَضَی تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّکَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَوَ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَا تُخْبِرْ نِسَائَکَ أَنِّي اخْتَرْتُکَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا قَالَ قَتَادَةُ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا مَالَتْ قُلُوبُکُمَا
زہری، عروہ، عائشہ نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا جب انتیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے بیویوں کو ملنے کا آغاز فرمایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے پاس آنے کی ایک مہینہ کی قسم اٹھائی تھی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن کے بعد ہی تشریف لے آئے ہیں میں انہیں شمار کر رہی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پھر فرمایا اے عائشہ! میں تجھ سے ایک معاملہ پیش کرنے والا ہوں تجھ پر اس میں جلدی نہ کرنا لازم ہے یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کر لے پھر میرے سامنے آیت تلاوت کی ( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا) تک عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا تحقیق اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہونے کو مشورہ نہ دیں گے میں نے کہا کیا میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتی ہوں معمر نے کہا مجھے ایوب نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو اس بات کی خبر نہ دیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار کیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے تکلیف میں ڈالنے والا بنا کر مبعوث نہیں فرمایا قتادہ نے " صَغَتْ قُلُوبُکُمَا" کا معنی تمہارے دل جھک رہے ہیں کیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment