کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
غلام آزاد کرنے کا بیان
باب
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
حدیث نمبر
3684
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنَّ أَهْلِي کَاتَبُونِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي کُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شَائَ أَهْلُکِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَکِ وَيَکُونَ الْوَلَائُ لِي فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لَهُمْ فَأَتَتْنِي فَذَکَرَتْ ذَلِکَ قَالَتْ فَانْتَهَرْتُهَا فَقَالَتْ لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمْ الْوَلَائَ فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ فَفَعَلْتُ قَالَتْ ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ کِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْکُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَائُ لِي إِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ابوکریب، محمد بن العلاء ہمدانی، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس حضرت بریرہ آئی اور کہا کہ میرے مالکوں نے مجھے نو اوقیہ نو سالوں میں ہر سال میں ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتب بنایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری مددکریں تو میں نے اس سے کہا اگر تیرے مالک چاہیں تو میں ان کو یہ بدل کتابت ایک ہی دفعہ ادا کروں اور تجھے آزاد کر دوں اور ولاء میرے لئے ہو جائے گا تو بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کا اپنے مالکوں سے ذکر کیا انہوں نے انکار کردیا سوائے اس کے کہ ولاء ان کے لئے ہو وہ میرے پاس آئیں اور اس کا ذکر کیا تو میں نے اسے جھڑکا تو اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ایسا نہیں جب اس نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا اور مجھ سے پوچھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو خرید اور آزاد کر اور ولاء کی شرط انہیں کے لئے کر لے کیونکہ ولاء کا حق تو اس کو ملے گا جس نے آزاد کیا تو میں نے ایساہی کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کو خطبہ دیا اللہ کی حمدوثناء بیان کی جیسے اس کے لائق ہے پھر اس کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ایسی شرائط باندھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگرچہ سو شرائط ہوں تو بھی اللہ کی کتاب زیادہ حقدار ہے اور اللہ کی شرط ہی زیادہ مضبوط ہے تم میں سے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کوئی کہتا ہے کہ فلاں آزاد کرے اور ولاء کا حق میرے لئے ہو بے شک ولاء کا حق اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment