Saturday, 1 October 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:828,TotalNo:3226


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
 مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حدیث نمبر
3226
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَائَهُ فَکُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا نَزَلَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّی إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
 یحیی بن ایوب بن سعید، قتیبہ ابن حجر، اسماعیل، ابن ایوب، ابن جعفر، عمرو بن ابی عمرو، مطلب بن عبداللہ بن حنظب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو تاکہ وہ میری خدمت کرے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لے آئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترتے اور راوی نے کہا کہ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ مدینہ والوں کے لئے ان کے مد اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment