کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حدیث نمبر
3250
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ اقْعُدِي لَکَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
یحیی بن یحیی، مالک، قطن بن وہب بن عویمربن اجدع، حضرت یحنس مولی زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ خبر دیتے ہیں کہ میں فتنہ کے دور میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کی آزاد کردہ باندی ان کے پاس آئی اور اس نے آپ کو سلام کیا اور عرض کرنے لگی کہ اے ابوعبدالرحمن ہم پر زمانے کی سختی ہے معاشی حالات کی تنگی جس کی وجہ سے میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت سے فرمایا کہ یہیں بیٹھی رہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کی سفارش کروں گا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment