کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نکاح کا بیان
باب
نکا ح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حدیث نمبر
3325
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَکَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِأَسْفَلِ مَکَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَکْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَکِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلَانِ فَنَشَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَی الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَی عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّی حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوکامل، فضیل ابن حسین جحدری، بشرابن مفضل، عمارہ بن غزیة، حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزورہ فتح مکہ میں شرکت کی انہوں نے کہا پس ہم نے مکہ میں پندرہ دن (یعنی دن رات تیس) قیام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی پس میں اور میری قوم میں سے ایک آدمی نکلے اور میں خوبصورتی میں اس پر فضیلت کا حامل تھا اور وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک چادر نئی اور عمدہ تھی جب ہم مکہ کے نیچے یا اونچے علاقے میں آئے تو ہمیں ایک عورت ملی جو کہ باکرہ نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اس سے کہا کیا تو ہم میں سے کسی ایک سے نکاح متعہ کر سکتی ہے اس نے کہا تم دونوں کیا بدل دو گے؟ ہر ایک نے چادر پھیلائی پس اس نے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور میرا ساتھی اسے دیکھتا تھا اس کے میلان طبع کے جانچنے کے لئے اس نے کہا یہ چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور عمدہ ہے اس عورت نے دو یا تین مرتبہ کہا کہ اس چادر میں کوئی حرج نہیں پھر میں نے اس سے نکاح متعہ کیا اور میں اس کے پاس سے اس وقت تک نہ آیا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے میرے لئے حرام نہ کردیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment