کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
کعبہ کی عمارت تو ڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
حدیث نمبر
3150
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَائَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْکٍ لَهَدَمْتُ الْکَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتْ الْکَعْبَةَ
ہناد بن سری، ابن ابی زائدہ، ابن ابی سلیمان، حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں جس وقت کہ شام والوں نے مکہ والوں سے جنگ کی اور بیت اللہ جل گیا اور اس کے نتیجے میں جو ہونا تھا وہ ہوگیا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت اللہ کو اسی حال میں چھوڑ دیا تاکہ حج کے موسم میں لوگ آئیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو شام والوں کے خلاف ابھاریں اور انہیں برانگیختہ کریں جب وہ لوگ واپس ہونے لگے تو حضرت زبیر نے فرمایا اے لوگو! مجھے کعبۃ اللہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر دوبارہ بناؤں یا اس کی مرمت وغیرہ کروا دوں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ میری یہ رائے ہے کہ اس کا جو حصہ خراب ہوگیا اس کو درست کروا لیا جائے باقی بیت اللہ کو اسی طرح رہنے دیا جائے جس طرح کہ لوگوں کے زمانہ میں تھا اور انہی پتھروں کو باقی رہنے دو کہ جن پر لوگ اسلام لائے اور جب پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ خوش نہیں ہوگا جب تک کہ اسے نیا نہ بنالے تو اپنے رب کے گھر کو کیوں نہ بنایا جائے؟ میں تین مرتبہ استخارہ کروں گا پھراس کام پر پختہ عزم کروں گاجب انہوں نے تین مرتبہ استخارہ کرلیا تو انہوں نے اسے توڑنے کا ارادہ کیا تو لوگوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ جو آدمی سب سے پہلے بیت اللہ کو توڑنے کے لئے اس پر چڑھے گا تو اس پر آسمان سے کوئی چیز بلا نازل نہ ہو جائے تو ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس نے اس میں سے ایک پتھر گرایا تو جب لوگوں نے اس پر دیکھا کہ کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو سب لوگوں نے اسے مل کو توڑ ڈالا یہاں تک کہ اسے زمین کے برابر کردیا حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند ستون کھڑے کر کے اس پر پر دے ڈال دیے یہاں تک کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگوں نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا اور میرے پاس اس کی تعمیر کا خرچہ بھی نہیں ہے اگر میں دوبارہ بناتا تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں داخل کردیتا اور اس میں ایک دروازہ ایسا بناتا کہ جس سے لوگ باہر نکلیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آج میرے پاس اس کو خرچہ بھی موجود ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں زیادہ کر دی یہاں تک کہ اس جگہ سے اس کی بنیاد ظاہر ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام والی بنیاد جسے لوگوں نے دیکھا حضرت ابن زبیرنے اس بیناد پر دیوار کی تعمیر شروع کر ادی اس طرح بیت اللہ لمبائی میں اٹھارہ ہاتھ ہوگیا جب اس میں زیادتی کی تو اس کا طول کم معلوم ہونے لگا پھر اس کے طول میں دس ہاتھ زیادتی کی اور اس کے دو دروازے بنائے کہ ایک دروازہ سے داخل ہوں اور دوسرے دروازے سے باہر نکلا جائے تو جب حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دئے گئے تو حجاج نے جوابا عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دی اور لکھا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعبۃ اللہ کی جو تعمیر کی ہے وہ ان بنیادوں کے مطابق ہے جہنیں مکہ کے باعتماد لوگوں نے دیکھا ہے تو عبدالملک نے جواباحضرت حجاج کو لکھا کہ ہمیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رد وبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے طول میں جو اضافہ کیا ہے اور حطیم سے جو زائد جگہ بیت اللہ میں داخل کی ہے اسے واپس نکال دو اور اسے پہلی طرح دوبارہ بنا دو اور جو دروازہ انہوں نے کھولا ہے اسے بھی بند کر دو پھر حجاج نے بیت اللہ کو گرا کر دوبارہ پہلے کی طرح اسے بنا دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment