کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حدیث نمبر
3236
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزَادَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
ابوبکر بن نضر بن ابونضر، عبیداللہ، سفیان، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اور ایک عام مسلمان کے پناہ دینے کا اعبتار کیا جا سکتا ہے تو جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی قیامت کے دن اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض قبول کیا جائے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment