کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق دائیں جانب سے سر منڈانا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں
حدیث نمبر
3062
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَکُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَيَقُولُ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَی الْمَرْئُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الْأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا ذَلِکَ وَلَا حَرَجَ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عیسی، ابن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر کھڑے ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنا شروع کردیا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہیں تھا کہ کنکریاں قربانی سے پہلے ماری جاتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے آدمی نے آکر کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ قربانی سر منڈانے سے پہلے کی جاتی ہے اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قربانی اب کرلو اور کوئی حرج نہیں عبداللہ فرماتے ہیں اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی کام کو آگے پیچھے بھول کر یا جہالت کی بناء پر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کاموں کے بارے میں فرمایا کہ اب کرلو کوئی حرج نہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment