کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں
حدیث نمبر
1538
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَائِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَائَ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَاکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو جابر بن زید، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعتیں (ظہر اور عصر) اکٹھی کر کے اور سات رکعتیں (مغرب اور عشاء) اکٹھی کر کے پڑھیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابوشعثاء! میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز میں دیر کر کے اور عصر کی نماز جلدی پڑھی اور مغرب کی نماز میں دیر کرکے عشاء کی نماز جلدی پڑھی، انہوں نے کہا کہ میرا بھی اسی طرح خیال ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment