کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں
حدیث نمبر
1533
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ سَعِيدًا لِمَ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ
احمد بن یونس، عون بن سلام، زہیر، ابوزبیر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر کسی خوف اور بغیر کسی سفر کے ظہر اور عصر کی نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھا ہے، حضرت ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جیسا کہ تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے کسی کو کوئی مشقت نہ ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment