کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
باب
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حدیث نمبر
1366
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ فَقَالَ کَأَنَّمَا أَسْمَعُکَ السَّاعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَانَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا قَالَ يَعْنِي الْعِشَائَ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَکَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَی أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَکَرَ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَکَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَی وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ قَالَ وَکَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَی الْمِائَةِ
یحیی بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، حضرت سیار بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابویسال ابوبرزہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سنا راوی نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے اس کو حضرت ابوبرزہ سے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا گویا کہ میں اس وقت اس کو سن رہا ہوں (مطلب یہ کہ اتنا یاد ہے) پھر اس نے کہا کہ میں نے اس کو سنا وہ ابوسیال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی پرواہ نہ فرماتے تھے کہ عشاء کی نماز میں اگرچہ آدھی رات تک دیر ہو جاتی اور نماز سے پہلے سونے اور نماز کے بعد باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے راوی شعبہ نے کہا کہ پھر میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ظہر کی نماز جب سورج ڈھل جاتا تو پڑھتے تھے اور عصر کی نماز جب آدمی مدینہ کے آخر میں چلا جاتا تھا اور سورج ابھی باقی ہوتا تھا اور مغرب کی نماز کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ وہ کس وقت پڑھتے تھے شعبہ نے کہا میں نے ان سے پھر ملاقات کی اور پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو دیکھ لیتا جسے جانتا تھا تو اسے پہچان لیتا تھا ور اس میں ساٹھ (آیات سے لے کر) سو (آیات) تک پڑھا کرتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment