کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
باب
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حدیث نمبر
1356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْکَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَائَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا وَخِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَعْتَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَائَ قَالَ حَتَّی رَقَدَ نَاسٌ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلَاةَ فَقَالَ عَطَائٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَائً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَی شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا کَذَلِکَ قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَائً کَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ کَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَائٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَی قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا کَذَلِکَ عَلَی الرَّأْسِ حَتَّی مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَی الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطِشُ بِشَيْئٍ إِلَّا کَذَلِکَ قُلْتُ لِعَطَائٍ کَمْ ذُکِرَ لَکَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ عَطَائٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً کَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ فَإِنْ شَقَّ عَلَيْکَ ذَلِکَ خِلْوًا أَوْ عَلَی النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسَطًا لَا مُعَجَّلَةً وَلَا مُؤَخَّرَةً
محمد بن رافع، عبدالرزاق، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا تمہارے نزدیک عشا کی نماز پڑھنے کے لئے کونسا وقت زیادہ بہتر ہے؟ وہ وقت کہ جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں، امام کے ساتھ پڑھے یا اکیلا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر فرما دی یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر جاگے پھر سو گئے اور پھر جاگے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا، نماز! عطا کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے گویا کہ میں اب بھی ان کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسم نے اپنے سر مبارک پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری امت پر کوئی دقت نہ ہوتی تو میں اسے اسی وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ کیسے رکھا ہوا تھا جیسا کہ اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا، عطاء نے اپنی انگلیاں کچھ کھولیں پھر اپنی انگلیوں کے کنارے اپنے سر پر رکھے پھر ان کو سر سے جھکایا اور پھیرا یہاں تک کہ آپ کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کی طرف پہنچا جو کنارہ منہ کی طرف ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انگوٹھا کنپٹی تک اور داڑھی کے کنارے تک ہاتھ نہ کسی کو پکڑتا تھا ورنہ ہی ہاتھ کسی چیز کو چھوتا تھا میں نے عطا سے کہا کہ کیا آپ کو اس کا بھی ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کی نماز میں کتنی دیر فرمائی کہنے لگے کہ میں نہیں جانتا، عطاء کہنے لگے کہ میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں چاہے امام کے ساتھ نماز پڑھوں یا اکیلا نماز پڑھوں دیر کر کے جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات دیر کرکے نماز پڑھائی اگر مجھے تنہائی میں مشقت ہو یا لوگوں پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں اور تو ان کا امام ہو تو انہیں درمیانی وقت میں نماز پڑھاؤ، نہ تو جلدی اور نہ ہی دیر کر کے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment