کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
باب
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حدیث نمبر
1351
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّی رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُکُمْ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات اپنے کسی کام میں مصروف تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے پھر ہم جاگے پھر ہم سو گئے پھر ہم جاگے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے پھر فرمایا کہ زمین والوں میں سے تمہارے علاوہ رات کو نماز کا انتظا رکر نے والا اور کوئی نہیں ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment