کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نماز کا بیان
باب
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت و قدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حدیث نمبر
837
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَی ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ فَقُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُکَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ قَالَتْ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا أَجْلِسَانِي إِلَی جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَی جَنْبِ أَبِي بَکْرٍ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْکَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْکَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الَّذِي کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ
احمد بن عبداللہ بن یونس، موسی بن ابی عائشہ، عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہوا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں نہیں بتائیں گی فرمایا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیماری سے افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے ہم نے عرض کیا نہیں وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے برتن میں پانی رکھ دو ہم نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر آپ چلنے لگے تو بے ہوشی طاری ہو گئی پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے ہم نے عرض کیا نہیں بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے برتن میں پانی رکھ دو ہم نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر افاقہ ہوا تو پوچھا کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہم نے عرض کیا نہیں بلکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتظار کر رہے ہیں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا صحابہ مسجد میں بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لئے انتظار کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سیدنا ابوبکر کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو اس نے جا کر کہا بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور ابوبکر نرم دل آدمی تھے اس لئے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں سیدہ نے فرمایا پھر ان کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کی نماز پڑھائی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان میں کچھ کمی محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے ظہر کی نماز کے لئے نکلے ان میں ایک حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو فرمایا مجھے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بٹھا دو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز ادا کرتے رہے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے عبیداللہ نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کیا میں آپ کی خدمت میں عائشہ کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں حدیث پیش نہ کروں جو آپ نے مجھے بیان کی ہے تو انہوں نے کہا لے آؤ تو میں نے سیدہ کی حدیث ان پر پیش کی تو انہوں نے اس سے کوئی انکار نہیں کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کیا سیدہ نے تجھے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جو آدمی تھا س کا نام بتایا ہے میں نے کہا نہیں تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment