کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نماز کا بیان
باب
بیٹھے ہوئے کی نیند کا وضو کو نہ توڑنے کی دلیل کے بیان میں
حدیث نمبر
740
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَکَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِکَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی وَقَالَ بَعْضُهُمْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ
اسحق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن بکر، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو جمع ہوجاتے اور نماز ادا کر لیتے اور کوئی آدمی ان کو نماز کے لئے نہیں پکارتا تھا ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی ان میں سے بعض نے کہا نصاری کے ناقوس کی طرح ناقوس لے لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کی طرح سینگ، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم کسی آدمی کو مقرر نہیں کردیتے جو نمازکے لئے بلائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلال اٹھو اور لوگوں کو نماز کے لئے پکارو۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment