Saturday, 14 May 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:721


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حیض کا بیان
باب
تیمم کے بیان میں
حدیث نمبر
721
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی فَقَالَ أَبُو مُوسَی يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ الْمَائَ شَهْرًا کَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَائَ شَهْرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَکَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَأَوْشَکَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمْ الْمَائُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی لِعَبْدِ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ کَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيکَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْکَ هَکَذَا ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَی الْيَمِينِ وَظَاهِرَ کَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابومعاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھنے والا تھا تو حضرت ابو موسیٰ نے عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا اگر کوئی آدمی جنبی ہو جائے اور وہ پانی ایک مہینہ تک نہ پا سکے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ ایک مہنیہ تک پانی نہ پائے تو ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو آیت سورة مائدہ میں ہے (فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا) اس کا کیا مطلب ہے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر لوگوں کو اس آیت کی بنا پر اجازت دی گئی تو مجھے اندیشہ ہے کہ جب ان کو سردی لگے تو وہ تو مٹی کے ساتھ تیمم کرنے لگیں گے تو ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت عمار کی یہ حدیث نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کام کی غرض سے بھیجا میں جنبی ہوگیا اور میں پانی نہیں پاتا تھا تو میں مٹی میں اس طرح لیٹا جس طرح جانور لیٹتا ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بارے میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تجھے اس طرح دونوں ہاتھ سے کرنا کافی تھا پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا اور اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کا مسح کیا اور پھر ہتھیلیوں کی پشت اور چہرے کا مسح کیا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر قناعت نہیں کی تھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment