کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حیض کا بیان
باب
تیمم کے بیان میں
حدیث نمبر
719
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالُوا أَلَا تَرَی إِلَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَی فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنْ التَّحَرُّکِ إِلَّا مَکَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَيْرِ مَائٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ يَا آلَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي کُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
یحیی بن یحیی، مالک بن عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں نکلے جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے تلاش کرنے کے لئے رک گئے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسی جگہ ٹھہرے گئے جہاں پانی نہ تھا اور نہ ان کے ساتھ پانی تھا تو صحابہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا کیا تم نہیں دیکھتے کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام صحابہ کو روک دیا ہے اور نہ ان کے پاس پانی ہے اور نہ اس جگہ پانی ہے پس ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر اپنے سر مبارک کو رکھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند میں محو تھے اور کہا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے لوگوں کو ایسی جگہ روک رکھا ہے جہاں پانی نہیں اور نہ ان کے ساتھ پانی ہے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور جو اللہ نے چاہا وہ کہا اور میری کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کونچے دینے لگے اور مجھے حرکت کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میری ران پر نیند کرنے نے روک دیا یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہوگئی تو اللہ تعالی نے آیتِ تیمم (فَتَیَمَّمُوا) نازل فرمائی تو اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے آل ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے اس کے نیچے ہار پایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment