کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
اللہ کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حدیث نمبر
326
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا فَقَالُوا وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَی اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّی أَتَيْنَا عَلَی ثَنِيَّةٍ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا هَرْشَی أَوْ لِفْتٌ فَقَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يُونُسَ عَلَی نَاقَةٍ حَمْرَائَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، داؤ د، ابوعالیہ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کونسی وادی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یہ ارزق کی وادی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ فرمایا جو راوی داؤ د کو یاد نہ رہا موسی علیہ السلام انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے بلند آواز سے لبیک کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلتے ہوئے ایک چوٹی پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کونسی چوٹی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ہرشیٰ یا لفت کی چوٹی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گویا کہ میں حضرت یونس علیہ السلام کو ایک سرخ اونٹنی پر بالوں کا جبہ پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے درخت کی چھا ل کی ہے اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment