کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
اللہ کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حدیث نمبر
318
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْکَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَکَانِهِ وَجَائَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَی أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ کُنْتُ أَرْئِي أَثَرَ ذَلِکَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ
شیبان بن فروخ، حماد ابن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے حضرت جبرائیل نے آپ کر پکڑا، آپ کر پچھاڑا اور دل کو چیر کر اس میں سے جمے ہوئے خون کا ایک لو تھڑا نکالا اور کہا کہ یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا پھر اس دل کو سونے کے طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا پھر اسے جو ڑ کر اس جگہ میں رکھ دیا اور لڑکے دوڑتے ہوئے آپ کی رضاعی والدہ کی طرف آئے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل کر دئے گئے یہ سن کر سب دوڑے دیکھا صرف آپ کا رنگ خوف کی وجہ سے بدلا ہوا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے سنیہ مبارک میں اس سلائی کا نشان دیکھا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment