کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
ایمان کی حالت میں وسوسے اور اس بات کا بیان کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
حدیث نمبر
256
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ مَا کَذَا مَا کَذَا حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ
عبداللہ بن عامر بن زرارہ، محمد بن فضیل، مختار بن فلفل، انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لوگ ہمیشہ کہتے رہیں گے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہاں تک کہ کہیں گے کہ ساری مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ہے؟
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment